پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے۔۔
ورنہ راہگیر کو جانے کی اجازت دی  جائے۔۔


کوئی طریقہ  نہیں  غم کے  علاوہ  غم  کا،
زہر میں زہر ملانے کی  اجازت  دی  جائے۔۔


دوغلے  پن  کا ہنر  سیکھ  لیا  ہے  ہم  نے،
اب مجھے شہر میں آنے کی اجازت دی جائے۔۔


کارِ دنیا۔۔!  مجھے مجنوں نہیں بننا ، لیکن،
عشق میں نام کمانے کی اجازت دی جائے۔۔


اس قدر ضبط میری جان بھی لے سکتا ہے،
کم سے کم اشک بہانے کی اجازت دی جائے
 
© Copyright 2016 Udas Pnchi Diary/Notebook by اُداس پنچھی All Rights Reserved.
;