دور تک چھائے تھے بادل اور کہں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
سرخ آہن پر ٹپکتی بوند ہے اب ہر خوشی
زندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسا یا نہ تھا
کیا ملا آخر تجھے سایوں کے پیچھے بھاگ کر
اے دلِ ناداں ، تجھے کیا ہم نے سمجھا یا نہ تھا؟
اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جس میں مخل
زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا
خوب روئے چھپ کے گھر چاردیواری میں ہم
حالِ دل کہنے کے قابل کوئی ہمسایا نہ تھا
ہوگئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی
پاس اپنے اور تو کوئی بھی سرمایا نہ تھا
اب کھلا جھونکوں کے پیچھے چل رہی تھیں آندھیاں
اب جو منظر ہے وہ پہلے تو نظر آیا نہ تھا !
صرف خوشبو کی کمی تھی موسمِ گل میں قتیل
ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا
قتیل شفائی
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
سرخ آہن پر ٹپکتی بوند ہے اب ہر خوشی
زندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسا یا نہ تھا
کیا ملا آخر تجھے سایوں کے پیچھے بھاگ کر
اے دلِ ناداں ، تجھے کیا ہم نے سمجھا یا نہ تھا؟
اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جس میں مخل
زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا
خوب روئے چھپ کے گھر چاردیواری میں ہم
حالِ دل کہنے کے قابل کوئی ہمسایا نہ تھا
ہوگئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی
پاس اپنے اور تو کوئی بھی سرمایا نہ تھا
اب کھلا جھونکوں کے پیچھے چل رہی تھیں آندھیاں
اب جو منظر ہے وہ پہلے تو نظر آیا نہ تھا !
صرف خوشبو کی کمی تھی موسمِ گل میں قتیل
ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا
قتیل شفائی