فرض کرو تم کچھ نہ پاؤ !
اپنا آپ لُٹا کر بھی !❣❣
فرض کُرو کوئی مُکر ہی جائے !
سچی قسم اُٹھا کر بھی !❣❣
اور فرض کرو یہ فرض نہ ہو!
سچی اِک حقیقت ہو❣❣
تیرے عشق کے ہر رستے پر
جاناں اِک قیامت ہو !
اور سُنا ھے یہ قیامت !
خون جگر کا پیتی ہے❣❣
تُم تو یارہ فرض کرو گے!
ہم پہ یہ سب بیتی ہے...!!!❣❣

 
© Copyright 2016 Udas Pnchi Diary/Notebook by اُداس پنچھی All Rights Reserved.
;