آنکھ میں پانی رکھو ، ہونٹوں پے چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

راہ کے پتھر  سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیں
راستے آواز دیتے ہیں سفر جارے رکھو

ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوست
دوستانہ زندگی سے، موت سے یاری رکھو

آتے جاتے یہ پل کہتے ہیں ہمارے کان میں
کچھ کا اعلان ہونے کو ہے تیاری رکھو

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا برہم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب میاری رکھو

یہ ہوائیں اُڑ  نہ جائیں لے کے کاغذ کا بندن
دوستوں مجھ پے پتھر کوئی بھاری رکھو

لے تو آئے شائری بازار میں “راحت” میاں
کیا؟ ضروری ہے کے لہجے کو بھی بازاری رکھو

 
© Copyright 2016 Udas Pnchi Diary/Notebook by اُداس پنچھی All Rights Reserved.
;