لکھے ہونگے کبھی کتابوں میں حوالے میرے
ہیں میرے آنسو ہی پاؤں کے چھالے میرے

اٹھا کے چاند میں زمین پہ دے ماروں گا
بڑی ہی گردش میں ہیں آج ستارے میرے

بڑا ہی پیار کرے ہے مجھ سے میرا حلقہء احباب
خوب ہی قصے ہواؤں میں اچھالے میرے

نا خدا چھوڑ گیا ہے مجھ کو بیچ بھنور
آ بچا لے مجھے اے چاہنے والے میرے

میں بازی پیار کی کھیلونگا تیری شرطوں پر
سارا نفع تیرا سارے خسارے میرے

نا خود کو دیکھنے کی حسرت رہے آئینے میں
تو اگر نظریں جو چہرے سے ہٹالے میرے

تو ہے دریا کی حسیں موج سماجا مجھ میں
میں ہوں سمندر نہیں ملتے کنارے میرے

میں خود ہی خود میں رہا قید کئی برسوں تک
تو نے ارمان دل سے باہر نکالے میرے

جو تیرا ساتھ نہ پاؤں تو میں اے جانِ وفا
میں چھوڑوں گا خود ہی باقی سہارے میرے

بڑا ہی وقت بتایا ہے میں نے سانپوں میں
تبھی تو زہر اگلتے ہیں اب مقالے میرے

بعد جانے کے میرے ڈھونڈے گا کاروان مگر
نا ملے گا کوچہ گلی نا ہی ٹھکانے میرے

 
© Copyright 2016 Udas Pnchi Diary/Notebook by اُداس پنچھی All Rights Reserved.
;