ہونٹوں پہ کبھی انکے میرا نام تو آئے،
آئے تو سہی برسرالزام ہی آئے،
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگیر ہیں غنچے،
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے،
لمحات میسر ہیں تصور سے گریزاں،
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے،
تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا،
مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے،
کیا راہ بدلنے کا گِلہ ھم سفروں سے،
جس رو سے چلے تیرے درو بام ہی آئے،
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا،
کام آئے تو پھر جذبہء ناکام ہی آئے،
باقی نہ رہے ساکھ ادا دشت و جنوں کی،
دل میں اگر اندیشہء انجام ہی آئے،
ادا جعفری
آئے تو سہی برسرالزام ہی آئے،
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگیر ہیں غنچے،
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے،
لمحات میسر ہیں تصور سے گریزاں،
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے،
تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا،
مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے،
کیا راہ بدلنے کا گِلہ ھم سفروں سے،
جس رو سے چلے تیرے درو بام ہی آئے،
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا،
کام آئے تو پھر جذبہء ناکام ہی آئے،
باقی نہ رہے ساکھ ادا دشت و جنوں کی،
دل میں اگر اندیشہء انجام ہی آئے،
ادا جعفری