ہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں  کھو  جانا۔۔
کیا اپنی طبیعت ہے ، ہر شخص کا ہوجانا۔۔

اک شہر  بسا  لینا  بچھڑے  ہوئے  لوگوں  کا،
پھر شب کے جزیرے میں دل تھام کے سوجانا۔۔

موضوعِ سخن کچھ ہو، تا دیر اسے تکنا،
ہر لفظ پہ رک جانا ، ہر بات پہ کھو جانا۔۔

آنا تو بکھر جانا سانسوں میں مہک بن کر،
جانا تو کلیجے میں کانٹے سے چبھو جانا۔۔

جاتے ہوئے چپ رہنا ان بولتی آنکھوں کا،
خاموش تکلم سے پلکوں  کو  بھگو  جانا۔۔

لفظوں میں اُتر آنا ان پھول سے کانٹوں کا،
اک لمس کی خوشبو کا پوروں میں سمو جانا۔۔

ہر  شام  عزائم  کے  کچھ  محل  بنا  لینا،
ہر صبح ارادوں  کی  دہلیز  پہ سو  جانا۔۔
 
© Copyright 2016 Udas Pnchi Diary/Notebook by اُداس پنچھی All Rights Reserved.
;