ہماری یادوں کے سائبانوں میں کون ہو گا ؟
جو ہم نہ ہوں گے تو اِن مکانوں میں کون ہو گا؟

کسی نے تقریب میں بُلایا تو ہے ہمیں بھی
مگر نہیں عِلم میزبانوں میں کون ہو گا؟

زمیں ۔۔ فرشتہ صفات لوگوں سے بھر گئی ہے
مَیں سوچتا ہوں کہ آسمانوں میں کون ہو گا؟

صبا نہ ہو گی تو کون رُودادِ گُل کہے گا ؟
ہَوا نہ ہو گی تو بادبانوں میں کون ہو گا؟

وہ جن کی محنت سے آگ کی چِمنیاں ہیں روشن
سوائے مزدور ' کار خانوں میں کون ہو گا ؟

سب اپنی اپنی کہانیوں کے حصار میں ہیں 
زباں زدِ عام داستانوں میں کون ہو گا؟

ہمارے قدموں میں گردِشیں رقص کر رہی ہیں 
ہمارے جیسا بھی نَو جوانوں میں کون ہو گا ؟

مَیں وقت کی دُھوپ کا مسافِر ۔۔ یہ جانتا ہوں 
تمہارے ہم راہ شامیانوں میں کون ہو گا ؟

وہ جن کا سرمایہ اُور اَثاثے ہوں سب وطن میں 
اب اِتنا اَچّھا بھی حُکم رانوں میں کون ہو گا ؟

مَیں سب کا ہم عصر ہو کے بھی سب سے مختلِف ہوں 
سو ' میرے جیسا نیا پرانوں میں کون ہو گا ؟

سلیم ؔ کوثر
 
© Copyright 2016 Udas Pnchi Diary/Notebook by اُداس پنچھی All Rights Reserved.
;