رخ اپنی تمناؤں کا اب موڑ رہا ہوں
اک ٹوٹے ہوئے شخص کو میں جوڑ رہاہوں
منزل کا تعین ہے نہ سانسوں کا بھروسہ
میں وقت کی تقلید میں بس دوڑ رہا ہوں
میں اورؤں کے حصے کے بھی دم پھونک نہ جاؤں
یہ سوچ کے جلدی سے میں دم توڑ رہاہوں
جس نے تھا مرے مرنے پہ نوحہ مرا پڑھنا
میں مر کے بھی اس شخص کو جھنجھوڑ رہاہوں
جس سحر نے توڑا ہے مجھے حال میں آکر
ماضی میں اسی سحر کا میں توڑ رہاہوں
انسان کی تکمیل ہے رہ جانا ادھورا
کچھ کام ادھورے میں تبھی چھوڑ رہاہوں
جس شاخ کو چھونے سے ہوا خلد سے باہر
میں آج بھی اس شاخ سے پھل توڑ رہاہوں
اک غم سے ہے اشکوں کے تعلق کی وضاحت
میں اشک سے پتھر کو اگر توڑ رہا ہوں
جدت کا تقاضہ ہے الٹ بات تو کاظم
دیوار کو میں سر سے میاں پھوڑ رہا ہوں
کے ایچ کاظم