ہم بستی بستی گھومے تھے
سب کنکر پتھر چومے تھے
ہم بادل برکھا ناچے تھے
اور ڈال ڈال پر جھومے تھے
ہم کلیوں کلیوں بھاتے تھے
اور خوشبو خوشبو مہکے تھے
ہم نگری نگری پھرتے تھے
اور گلیوں گلیوں گاتے تھے

وہ موسم رسماً بیت گیا

وہ موسم رسماً بیت گیا
اور ساون بازی جیت گیا
دل نبضاً نبضاً گرج اُٹھا
اور قطرہ قطرہ بھیگ گیا
ہم دل دروازے بند کیے
پھر جنگل جنگل بھٹکے تھے
اور جان ہتھیلی باندھے تھے
اور سانس سانس پہ اٹکے تھے
دل دریا دریا ڈوبا تھا
ہم لہروں لہروں بہتے تھے
دل گلشن گلشن کہتا تھا
ہم صحرا صحرا رہتے تھے

پھر موسم بدلا بات چلی
اور صدیوں لمبی رات چلی
پھر گیلی مٹّی مہک اٹھی
اور من جنگل برسات چلی
دل خوشبو کو پہچان گیا

دل خوشبو کو پہچان گیا
یہ بھولا بھٹکا جان گیا
جو اندر تک مہکاتی ہے
جو دل کے بھید سناتی ہے
جو بارش میں نہلائی ہے
اور صدیاں کاٹ کے آئی ہے
یہ عشق ہوا کہلاتی ہے
یہ عشق نگر سے آتی ہے

اس بارش میں نہلانے کو
اور اجلا سا ہو جانے کو
دل صدیاں صدیاں ترسا ہے
اور قطرہ قطرہ برسا ہے
اُس بستی سے جو بات چلی
وہ اور نہ کوئی جان سکے
اس دل میں صورت واحد کی
کوئی دوجا نہ پہچان سکے

ہم دل کے آگے ہار گئے
اور عقل کے دوجے پار گئے
دل ایک سمندر ڈوب گیا
اور ساحل چھُٹتا چھوٹ گیا
اب لہروں لہروں بہتے ہیں
اور روگ ہجر کے سہتے ہیں
ہم عشق نگر کی راہوں پر
کچھ سہمے سہمے رہتے ہیں

تم عشق کے مرکز ٹھہرے ہو
تم سے بس اتنا کہتے ہیں

گمنام کرو بدنام کرو
تم عشق پہ یوں انجام کرو
ہم عشق نگر کے ہو جائیں
تم ایسا  کوئی کام کرو
 
© Copyright 2016 Udas Pnchi Diary/Notebook by اُداس پنچھی All Rights Reserved.
;