سائیاں میرے تارے گُم
رات کے چند ســـہارے گُم
سارے جان سے پیارے گُم
انکھین گُـــم ،نظارے گُم
ریت میں آنسو ڈوب گئے
راکھ میں ہوۓ شرارے گُم
سائیاں میری راتیں گُم
ساون اور برساتیں گُم
لب گُم گشتہ، باتیں گُم
بینای گُم ۔جھاتیں گُم
جیون کے اس صحرا میں
سب جیتیں ، سب ماتیں گُم
سائیاں جان بیمار ہوئی
صدموں سے دوچار ہوئی
ہر شے سے بےزار ہوئی
پریتم دل ازار ہوئی
ہر اک سپنا سنگ ہوا
ہر خواہش دیوار ہوئی
سائیاں رشتے ٹوٹ گئے
سائیاں اپنے چھوٹ گئے
سچ گئے اور جھوٹ گئے
تیز مقدر پھوٹ گئے
جانے کیسے ڈاکو تھے جو
لٹے ہوؤں کو لوٹ گئے
سائیاں خواب اُداس ہوئے
سُرخ گلاب اُداس ہوئے
دل بے تاب اُداس ہوئے
دور سحاب اُداس ہوئے
جب سے صحرا چھوڑ دیا
ریت ، سراب اُداس ہوئے
سائیاں تنہا شاموں میں
چُنے گئے ہیں باموں میں
چاہت کے الزاموں میں
شامل ہوے غلاموں میں
اپنی ذات نہ ذاتوں میں
اپنا نام نہ ناموں میں
سائیاں ویرانی کے صدقے
اپنی یزدانی کے صدقے
جبر انسانی کے صدقے
لمبی زندانی کے صدقے
سائیاں میرے اچھے سائیاں
اپنی رحمانی کے صدقے
سائیاں میرا درد گھٹا
سائیاں میرے زخم بُجھا
سائیاں میرے عیب مٹا
سائیاں کوئی نوید سنا
اتنے کالے موسم میں
سائیاں اپنا اپ دیکھا
سائیاں میرے اچھے سائیاں
سائیاں میرے دولے سائیاں
سائیاں میرے پیارے سائیاں
سائیاں میرے بیبے سائیاں.
رات کے چند ســـہارے گُم
سارے جان سے پیارے گُم
انکھین گُـــم ،نظارے گُم
ریت میں آنسو ڈوب گئے
راکھ میں ہوۓ شرارے گُم
سائیاں میری راتیں گُم
ساون اور برساتیں گُم
لب گُم گشتہ، باتیں گُم
بینای گُم ۔جھاتیں گُم
جیون کے اس صحرا میں
سب جیتیں ، سب ماتیں گُم
سائیاں جان بیمار ہوئی
صدموں سے دوچار ہوئی
ہر شے سے بےزار ہوئی
پریتم دل ازار ہوئی
ہر اک سپنا سنگ ہوا
ہر خواہش دیوار ہوئی
سائیاں رشتے ٹوٹ گئے
سائیاں اپنے چھوٹ گئے
سچ گئے اور جھوٹ گئے
تیز مقدر پھوٹ گئے
جانے کیسے ڈاکو تھے جو
لٹے ہوؤں کو لوٹ گئے
سائیاں خواب اُداس ہوئے
سُرخ گلاب اُداس ہوئے
دل بے تاب اُداس ہوئے
دور سحاب اُداس ہوئے
جب سے صحرا چھوڑ دیا
ریت ، سراب اُداس ہوئے
سائیاں تنہا شاموں میں
چُنے گئے ہیں باموں میں
چاہت کے الزاموں میں
شامل ہوے غلاموں میں
اپنی ذات نہ ذاتوں میں
اپنا نام نہ ناموں میں
سائیاں ویرانی کے صدقے
اپنی یزدانی کے صدقے
جبر انسانی کے صدقے
لمبی زندانی کے صدقے
سائیاں میرے اچھے سائیاں
اپنی رحمانی کے صدقے
سائیاں میرا درد گھٹا
سائیاں میرے زخم بُجھا
سائیاں میرے عیب مٹا
سائیاں کوئی نوید سنا
اتنے کالے موسم میں
سائیاں اپنا اپ دیکھا
سائیاں میرے اچھے سائیاں
سائیاں میرے دولے سائیاں
سائیاں میرے پیارے سائیاں
سائیاں میرے بیبے سائیاں.