ڈر لگتا ہے

بات دن  کی نہیں مجھے رات سے ڈر لگتا ہے

گھر کَچہ ہے میرا مجھے برسات سے ڈر لگتا ہے


اُس نے تُحفے میں دیے مجھے خون کے آنسو

زندگی اَب تیری ہر سوغات سے ڈر لگتا ہے

چھوڑو پیار کی باتیں کوئی اور بات کرو

اَب تو پیار کی ہر بات سے ڈر لگتا ہے

میری خاطر وہ کہیں بدنام نہ ہو جائے

اِس لیے اُس کی ہر مُلاقات سے ڈر لگتا ہے

آپنوں میں رہ کر کچھ ایسے زخم کھائے ہیں

کہ ہمیں تو اَب اَپنی زات سے ڈر لگتا ہے
 
© Copyright 2016 Udas Pnchi Diary/Notebook by اُداس پنچھی All Rights Reserved.
;