بھول کر وہ جینے کی وجہ پوچھتی ہے
کیسے زندہ ہوں اَب تک یہ آدا پوچھتی ہے
روز میری روح کو دے جاتی ہے زخم نئے
شوق اُس کا ہے لیکن مجھ سے سزا پوچھتی ہے
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں جب بسی ہے وہ
پھر کیوں آپنی دے کے قسم میری رضا پوچھتی ہے
اُسے خوف ہے میں پا نہ لوں اُسے رب سے
میں جب بھی اُٹھاو ہاتھوں کو وہ دعا پوچھتی ہے